جم کھنڈی 30/اپریل (ایس او نیوز) کرناٹک میں 10 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئےکانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس کی طرف سے انتخابی تشہیر زوروں پر جاری ہیں، ایسے میں کانگریس س جنرل سکریٹری پرینکاگاندھی نے اتوار کے دن ضلع باگلکوٹ کے جمکھنڈی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کے گالیوں والے بیان پر آڑے ہاتھ لیا اور کہا کہ پبلک لائف(عوامی زندگی) میں رہنے والوں کو گالیاں سننی ہی پڑتی ہیں، لیکن میرا بھائی راہول گاندھی گالیاں ہی نہیں گولیاں کھانے کے لئے بھی تیار ہے۔ پرینکا گاندھی نے وزیراعظم مودی کومشورہ دیاکہ وہ راہول گاندھی سے کچھ سیکھیں ۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے دن کہاتھا کہ انہیں 91 مرتبہ گالیاں دی جاچکی ہیں۔ پرینکاگاندھی نے جلسہ عام سے خطاب میں کہاکہ 91 گالیاں ایک صفحہ پر آجائیں گی، لیکن اگر میرے خاندان کو دی جانے والی گالیوں کی فہرست مرتب کی جائے تو ہمیں کتابیں چھاپنی پڑیں گی۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بڑی عجیب بات‘میں پچھلے دو تین دن سے دیکھ رہی ہوں‘ میں نے کئی وزرائے اعظم دیکھے۔ اندراجی نے اس ملک کیلئے گولیاں کھائیں۔ میں نے راجیو جی کو دیکھا جنہوں نے اس دیش کیلئے اپنی جان قربان کی۔ میں نے پی وی نرسمہاراؤ اور منموہن سنگھ کو اس ملک کیلئے کڑی محنت کرتے دیکھا‘ لیکن مودی پہلے وزیراعظم ہیں جو آپ کے سامنے آکر رونا رو رہے ہیں کہ انہیں گالیاں کھانی پڑرہی ہیں۔
پرینکا نے کہا کہ مودی آپ کی بپتا سننے کے بجائے اپنا دکھڑا رونے کے لیے آپ لوگوں کے سامنے آرہے ہیں۔ مودی کا مذاق اڑاتے ہوئے پرینکانے کہا کہ وزیراعظم کے دفتر میں کسی نے عوام کے مسائل کی فہرست مرتب نہیں کی لیکن وزیراعظم کو دی جانے والی گالیاں گنی گئیں۔
پرینکا نے کہا کہ مودی جی‘ ہمت جٹائیے‘ میرے بھائی راہول گاندھی سے سیکھئے ۔ میرا بھائی کہتا ہے وہ اس دیش کی خاطر گولی کھائے گا‘گالی کیاچیز ہے۔ میرابھائی کہتا ہے وہ ستیہ(سچائی) کیلئے کھڑا رہے گا چاہے آپ اسے گالی دیں،گولی ماریں یا چھرا ماریں۔ مودی جی ڈرئیے مت‘ یہ پبلک لائف ہے۔ عوامی زندگی میں ایسی باتیں برداشت کرناپڑتا ہے۔ہمت ہونی چاہئے اور آگے بڑھنا چاہئے۔